نئی دہلی5مئی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) ملک کے عوام روز کسی نہ کسی طرح کے تنازعات ملاحظہ کرتے ہی رہتے ہیں، ایک تنازعہ ختم ہوتا نہیں کہ پھر پالیسی ساز افراد کی طرف سے دوسرا تنازعہ پیدا کردیا جاتا ہے اور عوام جاہل ، جذباتی اور احمق ہے کہ ان کی طرف سے پیدا کئے گئے تنازعہ میں خود کو گم بھی کرلیتے ہیں ، اس کی یہ حالت ہے کہ عوام بھوکے مررہے ہیں ، خواتین غیر محفوظ ہیں ، تعلیمی ادارے خستہ حال ہیں ، امتحانات کے پرچہ سوالات لیک ہورہے ہیں ؛لیکن ہم کبھی ان موضوعات پر حکومت سے سوال نہیں کرسکتے ہیں۔اسی تناظر میں جب کہ ہم اور آپ مفروضہ طور پر جناح کی تصویر کو لے کر جذباتی ہورہے ہیں وہیں اسی ملک میں ایک بار پھر کیش کی قلت نے اپنی آمدکی اطلاع دے دی ہے ۔واضح ہو کہ ملک کی کئی ریاستوں میں اچانک ایک بار پھر کیش بحران پیدا ہو گیا ہے۔ شمال مشرق کی ریاستوں میں عوام اے ٹی ایم میں کیش کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ زیادہ تر اے ٹی ایم خالی ہو گئے ہیں۔ بینک کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ گوہاٹی میں ریزرو بینک کی طرف سے کیش کی فراہمی میں تاخیر سے اکثر اے ٹی ایم میں نوٹ کا بحران پیدا ہوا ہے۔ واضح ہو کہ کچھ دن قبل بھی ملک کی کئی ریاستوں میں اے ٹی ایم خالی ہو گئے تھے اور ان کے باہر ’NO CASH‘ کی تختی آویزاں تھی۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ریجنل مینیجر دیپک چودھری نے کہا کہ ہمیں ایب ریٹس آسانی سے چلانے کے لئے اے ٹی ایم میں فریش نوٹس ڈالنے چاہئے، فی الحال بینک کے پاس پرانے نوٹس ہیں اور ہم نے گوہاٹی میں آر بی آئی سے کہا ہے کہ وہ تازہ نوٹ فوری طور پر ارسال کریں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اگلے ہفتے کے وسط تک حالات معمول پر آ جائیں گے امپھال میں ایک بینک کے افسر نے کہا کہ یہاں کیش بحران پیدا ہوا کیونکہ اے ٹی ایم سے زیادہ پیسے نکال لئے گئے۔ یو بی آئی کے ایک افسر نے کہا کہ کمرشل بینکوں کو کیش کی فراہمی کے لئے آر بی آئی کی طرف سے تقسیم کے نظام کے آغاز کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ افسر نے مزید کہا کہ آر بی آئی شمال مشرقی بھارت میں کمرشل بینکوں کو موجودہ صلاحیت کی بنیاد پر کیش کی فراہمی کر رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست میں کل بینک اکاؤنٹ ہولڈروں اور علاقے میں بینک کی تمام برانچ کے تناسب سے کیش بھیجا جا رہا ہے ۔